نماز کا بیان
نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکے اور امام نہ آئے تو بیٹھ کر امام کا انتظار کریں کھڑے نہ رہیں
عبد اللہ بن اسحاق ، ابو عاصم، ابن جریج، موسیٰ بن عقبہ، حضرت ابو النضر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تکبیر ہو جاتی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دیکھتے کہ مسجد میں لوگ کم ہیں تو بیٹھ جاتے اور نماز شروع نہ فرماتے اور جب دیکھتے کہ جماعت پوری ہو گئی تب نماز شروع فرماتے۔
عبد اللہ بن اسحاق ، ابو عاصم ابن جریج، موسیٰ بن عقبہ، نافع، ابن جبیر، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے مثل روایت ہے۔
ترک جماعت پر وعید
احمد بن یونس، زئدہ، سائب بن حبیش، معدان بن ابی طلحہ، حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمی کسی بستی یا جنگل میں ہوں اور پھر بھی وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے پس تم جماعت کو لازم کر لو کیونکہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو گلے سے الگ ہو زائدہ کہتے ہیں کہ سائب نے کہا جماعت سے مراد نماز با جماعت ہے۔
ترک جماعت پر وعید
عثمان بن ابی شیبہ، ابو معاویہ، اعمش، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں نے ارادہ کیا تھا کہ قیام نماز کا حکم دے کر اپنی جگہ کسی اور شخص کو نماز پڑھانے کے لیے کہوں اور اپنے ساتھ کچھ لوگ لے جاؤ جن کے ساتھ لکڑیوں کے گٹھڑ ہوں اور جا کر ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے۔
نفیلی، ابو ملیح، یزید بن یزید، یز ید بن اصم، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ اپنے نوجوانوں کو لکڑیوں کے گٹھے جمع کرنے کا حکم دوں اور پھر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو بلا عذر اپنے گھروں میں نماز پڑھتے ہیں اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ (یزید بن یزید کہتے ہیں کہ) میں نے یزید بن اصم سے پوچھا کہ اے ابو عوف جماعت سے نماز جمعہ مراد ہے یا عام جماعت کہا میرے کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے نہ سنا ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت ہے کرتے تھے لیکن انہوں نے نہ جمعہ کا تذکرہ کیا نہ کوئی اور نماز کا ۔
ہارون بن عباد، وکیع، مسعودی، علی بن اقمر، احوص، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا پانچوں نمازوں کی پابندی کرو جب ان کے لیے بلایا جائے (یعنی اذان دی جائے) کیونکہ یہ سنن ہدیٰ ہیں اور اللہ تعالی نے ان نمازوں کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے سنن ہدیٰ بنایا ہے اور ہم نے دیکھا کہ جماعت کی نماز میں صرف وہی لوگ نہ آتے تھے جن کا نفاق کھلا ہوا تھا اور ہم دیکھتے تھے کہ کسی کو تو دو دو آدمی سہارا دے کر لاتے تھے اور اس کو صف میں کھڑا کرتے تھے تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے گھر میں نماز پڑھنے کی جگہ نہ ہو لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو گے اور مسجدوں کو چھوڑ دو گے تو تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے طریقہ کو چھوڑ دو گے اور اگر تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے طریقہ کو چھوڑ دو گے تو کفر کا کام کرو گے۔
قتیبہ، جریر، ابو جناب، عدی بن ثابت، سعید، بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب کوئی شخص اذان کی آواز سنے اور نماز کے لیے نہ جائے باوجود اس کے کہ کوئی عذر (خوف یا بیماری) بھی نہ ہو تو اس کی تنہا پڑھی ہوئی نماز قبول نہ ہو گی۔
سلیمان بن حرب، حماد بن زید، عاصم بن بہدلہ، ابو رزین، حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں نابینا ہوں اور میرا گھر دور ہے اور جو مجھ کو لے کر آتا ہے وہ میرا تابع نہیں ہے تو کیا ایسی صورت میں میرے لیے گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا کہ کیا تو اذان کی آواز سنتا ہے؟ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہا ہاں (میں اذان کی آواز سنتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تب میں تیرے لیے کوئی گنجائش نہیں پاتا۔
ہارون بن زید، ابی زرقا، سفیان، عبد الرحمن بن عابس، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ میں زہریلے کیڑے اور درندے بہت ہیں (تو کیا میرے لیے گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، تو حَیَّ عَلَی الصَّلوٰة، حَیَّ عَلَی الفَلَاح کی آواز سنتا ہے تو ضرور آ۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس کو سفیان سے قاسم جرمی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے
نماز با جماعت کی فضیلت
حفص بن عمر، شعبہ، ابو اسحاق ، عبداللہ بن ابی نصیر، ابی بن کعب، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہم کو ایک دن فجر کی نماز پڑھائی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا فلاں شخص حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا کہ فلاں شخص موجود ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ دو نمازیں (عشاء فجر) منافقین پر بہت بھاری ہوتی ہیں اگر تم جان لیتے کہ (خاص طور پر) ان دو نمازوں کا کتنا ثواب ہے تو تم گھٹنوں کے بل چل کر بھی آتے اور صف اول (قربت و ثواب میں) فرشتوں کی صف کی طرح ہے اور اگر تم جان لیتے کہ (صف اول کی شرکت کی) کتنی فضیلت ہے تو یقیناً تم اس کی طرف سبقت کرتے اور دو آدمیوں کا مل کر نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے افضل ہے اور تین آدمیوں کا مل کر نماز پڑھنا دو آدمیوں کے مل کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور نماز میں جس قدر بھی لوگ ہوں گے اللہ کے نزدیک وہ نماز اتنی ہی پسندیدہ ہو گی۔
احمد بن حنبل، اسحاق بن یوسف، سفیان، ابی سہل، عثمان بن حکیم، عبدالرحمن بن ابی عمرہ، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص عشاء کی نماز جماعت سے ادا کرے گا گویا اس نے آدھی رات تک عبادت کی اور جو شخص عشاء و فجر کی نماز جماعت سے ادا کرے گا تو گویا اس نے تمام رات عبادت میں گذاری۔
نماز کے لیے پیدل جانے کی فضیلت
مسدد، یحیی، ابن ابی ذئب، عبدالرحمن بن مہران، عبدالرحمن بن سعد، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ آدمی مسجد میں جتنا دور سے آتا ہے (تو آنے جانے میں قدم اٹھاتا ہے اسی قدر ثواب ملتا ہے)۔
عبد اللہ بن محمد، زہیر، سلیمان، ابو عثمان، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری نظر میں مدینہ کے لوگوں میں نمازیوں میں سے کسی کا مکان مسجد سے اتنا دور نہ تھا جتنا کہ ایک شخص کا تھا مگر اس کی جماعت ناغہ نہ ہوتی تھی میں نے اس سے کہا کہ اگر تم ایک گدھا خرید لو جس پر گرمی کی شدت اور تاریکی کی بنا پر تم سوار ہو کر مسجد آ سکو تو بہتر ہو گا اس نے کہا مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد سے متصل ہو یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک بھی پہنچی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سے پوچھا تیرا اس قول سے کیا مقصد تھا؟ وہ بولا یا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میری غرض اس سے یہ تھی کہ مجھے مسجد میں آنے اور جانے کا ثواب ملے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ سن کر فرمایا کہ اللہ نے تجھے وہ سب عطاء فرمادیا جو تو نے اس سے چاہا۔
ابو توبہ ہثیم بن عبد اللہ، یحیی بن حارث، قاسم ابی عبدالرحمن ابی امامہ، حضرت ابو عمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے گھر سے وضو کر کے فرض نماز کی نیت سے نکلے گا اس کو اس قدر ثواب ملے گا جتنا کہ احرام باندھ کر حج پر جانے کا ہوتا ہے اور جو شخص نفل نماز کی نیت سے نکلے گا صرف سی کا قصد کرتے ہوئے تو اس کو ایسا ثواب ملے گا جیسا کہ عمرہ کرنے والے کو ملتا ہے اور جو نماز ایک نماز کے بعد ہو اور درمیان میں کوئی لغو اور بیہودہ کام نہ ہو تو وہ نماز علیین میں لکھی جائے گی۔
مسدد، ابو معاویہ، اعمش، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ کسی شخص کا جماعت سے نماز پڑھنا اسکا گھر پر یا بازار (دکان) میں تنہا نماز پڑھنے سے پچیس درجہ فضیلت رکھتا ہے اس لئے کہ جب تم سے کوئی اچھی طرح وضو کرتا ہے اور محض نماز ہی کی خاطر مسجد میں جاتا ہے تو اس کے ہر قدم پر اسکا ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے اور جب وہ مسجد میں پہنچ گیا تو گویا وہ نماز ہی کی حالت میں ہے۔ جب تک کہ وہ مسجد میں نماز کے لیے رکا رہے اور جب تک وہ اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے تب تک فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی مغفرت فرما، اس پر رحم فرما، اور اس کی توبہ قبول فرما، (اور دعا کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے) جب تک کہ وہ کسی کو کوئی ایذاء نہ پہنچائے یا اس کو کوئی حدث لاحق نہ ہو۔
محمد بن عیسی، ابو معاویہ، ہلال بن میمون، عطاء بن یزید، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جماعت کی نماز پچیس نمازوں کے برابر ہے اور جب نماز جنگل میں پڑھی جائے اور رکوع و سجود اچھی طرح ادا کیے جائیں تو اسکا ثواب پچاس نمازوں کے برابر ہو گا ابو داؤد کہتے ہیں کہ عبدالواحد بن زیاد نے اس حدیث میں کہا ہے کہ جنگل میں آدمی کی نماز جماعت کی نماز سے ثواب میں دوچند زیادہ
کی جاتی ہے پھر آخر تک حدیث بیان کی۔
ابو داؤدؒ






0 comments:
Post a Comment