Wednesday, March 20, 2013

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ اے چچا تم ایک کلمہ لا الٰہ الا للہ کہہ دو


3: سعید بن مسیب (جو مشہور تابعین میں سے ہیں)اپنے والد (سیدنا مسیب صبن حزن بن عمرو بن عابد بن عمران بن مخزوم قرشی مخزومی، جو کہ صحابی ہیں) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ جب ابو  طالب بن عبدالمطلب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے حقیقی چچا اور مربی) مرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ان کے پاس تشریف لائے اور وہاں ابو  جہل (عمرو بن ہشام) اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو بیٹھا دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ اے چچا تم ایک کلمہ لا الٰہ الا للہ کہہ دو، میں اللہ کے پاس اس کا گواہ رہوں گا تمہارے لئے (یعنی اللہ عزوجل سے قیامت کے روز عرض کروں گا کہ ابو  طالب موحد تھے اور ان کو جہنم سے نجات ہونی چاہیئے انہوں نے آخر وقت میں کلمہ توحید کا اقرار کیا تھا)۔ ابو  جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولے کہ اے ابو  طالب! عبدالمطلب کا دین چھوڑتے ہو؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم برابر یہی بات ان سے کہتے رہے (یعنی کلمہ توحید پڑھنے کے لئے اور ادھر ابو  جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ اپنی بات بکتے رہے) یہاں تک کہ ابو  طالب نے اخیر بات جو کی وہ یہ تھی کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں اور انکار کیا لا الٰہ الا اللہ کہنے سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لئے دعا کروں گا (بخشش کی) جب تک کہ منع نہ ہو۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری’’ پیغمبر اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں، اس امر کے ظاہر ہو جانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں ‘‘ (التوبۃ: 113) اور اللہ تعالی ٰنے ابو  طالب کے بارے میں یہ آیت اتاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے فرمایا کہ’’ آپ (صلی اللہ علیہ والہ و سلم) جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے ‘‘ (القصص: 56)۔ 

باب: ایمان کا پہلا رکن لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے



1: ابو  جمرہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس ؓ کے سامنے ان کے اور لوگوں کے بیچ میں مترجم تھا (یعنی اوروں کی بات کو عربی میں ترجمہ کر کے سیدنا ابن عباس ؓ کو سمجھاتا) اتنے میں ایک عورت آئی اور گھڑے کے نبیذ کے بارہ میں پوچھا۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا کہ عبدالقیس کے وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے پوچھا کہ یہ وفد کون ہیں ؟ یا کس قوم کے لوگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ ربیعہ کے لوگ ہیں آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ مرحبا ہو قوم یا وفد کو جو نہ رسوا ہوئے نہ شرمند ہوئے (کیونکہ بغیر لڑائی کے خود مسلمان ہونے کے لئے آئے، اگر لڑائی کے بعد مسلمان ہوتے تو وہ رسوا ہوتے، لونڈی غلام بنائے جاتے، مال لٹ جاتا تو شرمندہ ہوتے) ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ! ہم آپ کے پاس دور دراز سے سفر کر کے آتے ہیں اور ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے درمیان میں کافروں کا قبیلہ مضر ہے تو ہم نہیں آ سکتے آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم تک، مگر حرمت والے مہینہ میں (جب لوٹ مار نہیں ہوتی) اس لئے ہم کو حکم کیجئے ایک صاف بات کا جس کو ہم بتلائیں اور لوگوں کو بھی اور جائیں اس کے سبب سے جنت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ان کو چار باتوں کا حکم کیا اور چار باتوں سے منع فرمایا۔ ان کو حکم کیا اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لانے کا اور ان سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ ایمان کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ ایمان گواہی دینا ہے اس بات کی کہ سوا اللہ کے کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم اس کے بھیجے ہوئے ہیں اور نماز کا قائم کرنا اور زکوٰۃ کا دینا اور رمضان کے روزے رکھنا (یہ چار باتیں ہو گئیں، اب ایک پانچویں بات اور ہے) اور غنیمت کے مال میں سے پانچویں حصہ کا ادا کرنا (یعنی کفار کی سپاہ یا مسلمانوں کے خلاف لڑنے والوں سے جو مال حاصل ہو مال غنیمت کہلاتا ہے) اور منع فرمایا ان کو کدو کے برتن، سبز گھڑے اور روغنی برتن سے۔ (شعبہ نے) کبھی یوں کہا اور نقیر سے اور کبھی کہا مقیر سے۔ (یعنی لکڑی سے بنائے ہوئے برتن ہیں)۔ اور فرمایا کہ اس کو یاد رکھو اور ان باتوں کی ان لوگوں کو بھی خبر دو جو تمہارے پیچھے ہیں۔ اور ابو  بکر بن ابی شیبہ نے مَنْ وَّرَآئَکُمْ کہا بدلے مِنْ وَرَآئِکُمْ کے۔ (ان دونوں کا مطلب ایک ہی ہے)۔ اور سیدنا ابن معاذ ؓ نے اپنی روایت میں ا پنے باپ سے اتنا زیادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے عبدالقیس کے اشج سے (جس کا نام منذر بن حارث بن زیاد تھا یا منذر بن عبید یا عائذ بن منذر یا عبداللہ بن عوف تھا) فرمایا کہ تجھ میں دو عادتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، ایک تو عقل مندی، دوسرے دیر میں سوچ سمجھ کر کام کرنا جلدی نہ کرنا۔ 
2: سیدنا ابو  ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ایک دن لوگوں میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ! ایمان کسے کہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تو یقین کرے دل سے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس سے ملنے پر اور اس کے پیغمبروں پر اور یقین کرے قیامت میں زندہ ہونے پر۔ پھر وہ شخص بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ! اسلام کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو اللہ جل جلالہ کو پوجے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور قائم کرے تو فرض نماز کو اور دے تو زکوٰۃ کو جس قدر فرض ہے اور روزے رکھے رمضان کے۔ پھر وہ شخص بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ! احسان کسے کہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ تو عبادت کرے اللہ کی جیسے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اگر تو اس کو نہیں دیکھتا (یعنی توجہ کا یہ درجہ نہ ہو سکے)تو اتنا تو ہو کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ پھر وہ شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ! قیامت کب ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ جس سے پوچھتے ہو قیامت کو وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن اس کی نشانیاں میں تجھ سے بیان کرتا ہوں کہ جب لونڈی اپنے مالک کو جنے تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب ننگے بدن ننگے پاؤں پھرنے والے لوگ سردار بنیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب بکریاں یا بھیڑیں چرانے والے بڑی بڑی عمارتیں بنائیں تو یہ بھی قیامت کی نشانی ہے۔ قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کو کوئی نہیں جانتا سوا اللہ تعالیٰ کے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے یہ آیت پڑھی کہ’’ اللہ ہی جانتا ہے قیامت کو اور وہی اتارتا ہے پانی کو اور جانتا ہے جو کچھ ماں کے رحم میں ہے (یعنی مولود نیک ہے یا بد، رزق کتنا ہے، عمر کتنی ہے وغیرہ) اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس ملک میں مرے گا۔ اللہ ہی جاننے والا اور خبردار ہے ‘‘۔ (لقمان: 34) پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ اس کو پھر واپس لے آؤ۔ لوگ اس کو لینے چلے لیکن وہاں کچھ نہ پایا (یعنی اس شخص کا نشان بھی نہ ملا) تب آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ وہ جبرئیل ؑ  تھے، تم کو دین کی باتیں سکھلانے آئے تھے۔ 

Monday, March 18, 2013

باب :رسول اللہﷺ سے محبت رکھنا ایمان میں سے ہے


باب :رسول اللہﷺ سے محبت رکھنا ایمان میں سے ہے
۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : اس (پاک ذات)  کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اور اس کی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤ ں۔ 

باب : اپنے بھائی (مسلمان) کے لیے وہی بات چاہنا جو اپنے لیے چاہے (یہ) ایمان میں سے ہے۔


باب : اپنے بھائی (مسلمان)  کے لیے وہی بات چاہنا جو اپنے لیے چاہے (یہ)  ایمان میں سے ہے۔ 
 (۱۳)۔ سیدنا انسؓ نبی سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایماندار نہ ہو گا یہاں تک کہ اپنے بھائی (مسلمان)  کے لیے وہی کچھ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔

کونسا اسلام افضل ہے


(اس بیان میں کہ)  کونسا اسلام افضل ہے ؟
 (۱۱)۔ سیدنا ابوموسیٰؓ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! کونسا اسلام افضل ہے ؟ تو آپﷺ نے فرمایا: (اس شخص کا اسلام)  جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان ایذا نہ پائیں۔ 
باب: (کسی کو)  کھانا کھلانا اسلام میں سے ہے 
 (۱۲)۔ سیدنا عبد اللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ کونسا اسلام بہتر ہے ؟تو آپﷺ نے فرمایا: کھانا کھلاؤ اور جس کو جانتے ہو اور جس کو نہیں جانتے ہو (سب کو)  سلام کرو۔

ایمان کے کاموں کا بیان



باب:  ایمان کے کاموں کا بیان 
 (۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا : ایمان ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں رکھتا ہے اور حیا (بھی)  ایمان کی (شاخوں میں سے)  ایک شاخ ہے۔ 
باب :(اس بیان میں کہ پکا)  مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے)  مسلمان ایذا نہ پائیں۔ 
 (۱۰)۔ سیدنا عبد اللہ بن عمروؓ نبیﷺ سے بیان کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا : (پکا)  مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے)  مسلمان ایذا نہ پائیں (اور اصل) مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن کی اللہ تعالیٰ نے ممانعت فرمائی

اسلام (کا محل) پانچ (ستونوں) پر بنایا گیا ہے



ایمانیات 

 باب: نبیﷺ کا ارشاد (ہے)  کہ اسلام (کا محل)  پانچ (ستونوں)  پر بنایا گیا ہے 
 (۸)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اسلام (کا محل)  پانچ (ستونوں)  پر بنا یا گیا ہے (۱) اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کو ئی معبود نہیں ہے اور اس بات کی گواہی (بھی دینا)  کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں (۲)  نماز پڑھنا (۳)  زکوٰۃ دینا (۴) حج کرنا (۵) رمضان کے روزے رکھنا۔ ‘‘

رسول اللہﷺ پر (نزول) وحی کا آغاز رسول اللہﷺ کی طرف وحی کی ابتدا کس طرح ہوئی (یعنی اس کا ظہور کیونکر ہوا)




رسول اللہﷺ پر (نزول)  وحی کا آغاز

 رسول اللہﷺ کی طرف وحی کی ابتدا کس طرح ہوئی (یعنی اس کا ظہور کیونکر ہوا) 


 (۱)۔ خلیفہ راشد سیدنا عمر بن خطابؓ نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا: تمام اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے اور عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت (ترک وطن)  دولت دنیا حاصل کرنے کے لئے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض سے ہو ‘ پس اس کی ہجرت انہی چیزوں کے لیے (شمار)  ہو گی جن کو حاصل کرنے کے لیے اس نے ہجرت کی ہے۔ 
 (۲)۔  ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے (روایت ہے)  کہ حارث بن ہشام نے رسول اللہﷺ سے دریافت کیا یا  رسول اللہ ! آپ پر وحی کس طرح آتی ہے؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ کبھی تو میرے پاس گھنٹی کی آواز کی طرح آواز آتی ہے اور (نزول وحی کی تمام حالتوں میں)  یہ (حالت)  مجھ پر زیادہ دشوار ہے۔ پھر (یہ حالت)  مجھ سے دور (موقوف)  ہو جاتی ہے اس حال میں کہ (فرشتے نے) جو کچھ کہا اس کو اخذ کر چکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ میرے سامنے آدمی کی صورت میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے تو جو کچھ وہ کہتا ہے اس کو میں حفظ کر لیتا ہوں۔ ‘‘ام المومینن عائشہؓ کہتی ہیں کہ بے شک میں نے سخت سردی والے دن آپﷺ پر وحی اترتے ہوئے دیکھی اور سلسلہ منقطع ہونے پر (یہ دیکھا کہ اس وقت)  آپﷺ کی (مقدس)  پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا تھا۔ 
 (۳)۔ ام المومنین عائشہؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا سب سے پہلی وحی جو رسول اللہﷺ پر شروع ہوئی وہ اچھے خواب تھے۔ پس جو خواب آپﷺ دیکھتے تھے وہ (صاف صاف)  صبح کی روشنی کے مثل ظاہر ہو جاتا تھا۔ (پھر اللہ کی طرف سے)  خلوت کی محبت آپﷺ کو دے دی گئی۔ چنانچہ آپﷺ غار حرا میں خلوت فرمایا کرتے تھے اور وہاں آپ کئی رات (لگاتار)  عبادت کیا کرتے تھے۔ بغیر اس کے کہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آتے اور اسی قدر  زاد راہ بھی لے جاتے یہاں تک کہ آپﷺ کے پاس وحی آ گئی اور آپﷺ غار حرا میں تھے یعنی فرشتہ آپﷺ کے پاس آیا اور اس نے (آپﷺ سے)  کہا کہ پڑھو ! آپﷺ نے فرمایا: میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ آپﷺ فرماتے ہیں پھر فرشتے نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے (زور سے)  بھینچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے !تو میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ پھر فرشتے نے مجھے پکڑ لیا اور (زور سے)  بھینچا یہاں تک کہ مجھے تکلیف ہوئی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھیے۔ تو میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ آپﷺ فرماتے ہیں  کہ فرشتے نے مجھے پھر پکڑ لیا اور سہ بار مجھے (زور سے) بھینچا پھر مجھ کہا کہ (اقرا باسم ربک﴾الخ (العلق : ۱۔ ۳) ’’اپنے پروردگار کے نام (کی بر کت)  سے پڑھو جس نے (ہر چیز کو)  پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیاپڑھو اور (یقین کر لو کہ)  تمہارا  پروردگار بڑا بزرگ ہے‘‘۔ پس رسول اللہﷺ کا دل اس واقعہ کے سبب سے (مارے خوف کے) کانپنے لگا اور آپﷺ ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور (وہاں موجود لوگوں سے)  کہا کہ مجھے کمبل اڑھا دو،مجھے کمبل اڑھا دو۔ چنانچہ انھوں نے آپﷺ کو کمبل اڑھا دیایہاں تک کہ (جب)  آپﷺ کے دل سے خوف جاتا رہا تو آپﷺ نے خدیجہؓ سے سب حال (جو غار میں گزرا تھا)  بیان کر کے کہا کہ بلاشبہ مجھے اپنی جان کا خوف ہے۔ خدیجہؓ بولیں کہ ہر گز نہیں۔ اللہ کی قسم ! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ یقیناً آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ناتواں کا بوجھ اٹھاتے ہیں،جو چیز لوگوں کے پاس نہیں وہ انہیں دیتے ہیں مہمان کی خاطر تواضع کرتے ہیں اور (اللہ کی راہ میں)  مدد کرتے ہیں۔ پھر خدیجہؓ  آپﷺ کولے کر چلیں اور ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزیٰ جو کہ خدیجہؓ کے چچا کے بیٹے تھے،کے پاس آپﷺ کو لائیں اور ورقہ وہ شخص تھا جو زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہو گیا تھا اور عبرانی کتا ب لکھا کرتا تھا۔ یعنی جس قدر اللہ کو منظور ہوتا تھا انجیل کو عبرانی میں لکھا کرتا تھا اور بڑا بوڑھا آدمی تھا کہ بینائی جا چکی تھی۔ تو اس سے ام المومنین خدیجہؓ نے کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے (ﷺ)  سے (ان کا حال)  سنو !ورقہ بولے،اے میرے بھتیجے !تم کیا دیکھتے ہو؟ رسول اللہﷺ نے جو کچھ دیکھا تھا ان سے بیان کر دیا تو ورقہ نے آپﷺ سے کہا کہ یہ وہ فرشتہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ پر نازل کیا تھا۔ اے کاش! میں اس وقت (جب آپﷺ نبی ہوں گے)  جوان ہوتا۔ اے کاش میں (اس وقت تک)  زندہ رہتا جب کہ آپﷺ کو آپ کی قوم (مکہ سے)  نکالے گی۔ رسول اللہﷺ نے (یہ سن کر بہت تعجب سے)  فرمایا :کیا یہ لوگ مجھے نکالیں گے ؟ ورقہ نے کہا ہاں جس شخص نے آپﷺ جیسی بات بیان کی اس سے (ہمیشہ)  دشمنی کی گئی اور اگر مجھے آپﷺ (کی نبوت)  کا دور مل گیا تو میں آپﷺ کی بہت ہی بھر پور طریقے سے مد د کروں گا۔ مگر چند ہی روز گزرے تھے کہ ورقہ کی وفات ہو گئی اور وحی (کی آمد عارضی طور پر چند روز کے لیے)  رک گئی۔ 
 (۴)۔ سید نا جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے اور وہ وحی کے بند ہو جانے کا حال بیان کرتے ہیں اور (یہ بھی)  کہتے ہیں کہ (رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایک دن)  اس حال میں کہ میں چلا جا رہا تھا تو یکا یک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی،میں نے اپنی نظر اٹھائی تو (کیا دیکھتا ہوں کہ)  وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا،ایک کرسی پر زمین و آسمان میں معلق بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس (کے دیکھنے)  سے ڈر گیا۔ پھر لوٹ آیا تو میں نے (گھر میں آ کر)  کہا مجھے کمبل اڑھا دو،مجھے کمبل اڑھا دو۔ پھر (اسی موقع پر)  اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ’’اے کپڑا اوڑھنے والے اٹھ کھڑا ہو اور (لوگوں کو عذاب الٰہی سے)  ڈرا اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر اور ناپا کی (یعنی بتوں کی پرستش)  کو چھوڑ دے۔ (المدثر:۱۔ ۵) 
 (۵)۔ سید نا ابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے کلام ’’ لا تحریک۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ الخ (سورۃ القیامہ :۱۶کی تفسیر)  میں منقول ہے کہ رسول اللہﷺ کو (قرآن کے)  نزول کے وقت سخت دقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ازاں جملہ یہ تھا کہ آپﷺ اپنے دونوں ہونٹ (جلد جلد)  ہلاتے تھے (تاکہ وحی یاد ہو جائے)  ابن عباسؓ نے (سعید  راوی سے)  کہا کہ میں اپنے ہونٹوں کو تمہارے (سمجھانے کے لیے)  اسی طرح حرکت دیتا ہوں جس طرح رسول اللہﷺ اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے (الغرض رسول اللہﷺ کی یہ حالت دیکھ کر)  اللہ تعالیٰ  نے یہ آیات نازل فرمائیں : ’’اے محمد (ﷺ) (قرآن کو جلد یاد کرنے کے لیے)  اس کے ساتھ تم اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کرو تا کہ جلد (اخذ)  کر لو ‘یقیناً اس کا جمع کر دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے ‘‘ (سورۃ القیامہ:۱۷۔ ۱۶) سیدنا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ (یعنی)  قرآن کا تمہارے سینہ میں جمع (محفوظ)  کر دینا اور اس کو تمہیں پڑھا دینا۔ پھر جس وقت ہم اس کو پڑھ چکیں تو پھر تم اس کے پڑھنے کی پیروی کرو۔ (سورۃ القیامۃ :۱۸)  ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ یعنی اس کو توجہ سے سنو اور چپ رہو۔ پھر یقیناً اس (کے مطلب)  کا سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے (سورۃ القیامۃ :۱۹)  (یعنی) پھر بے شک ہمارے ذمہ ہے یہ کہ انھیں یاد ہو جائے پھر اس کے بعد جب آپﷺ کے پاس جبرئیلؑ (کلام الٰہی لے کر) آتے تھے تو آپﷺ توجہ سے سنتے تھے۔ جب جبرئیلؑ چلے جاتے تو اس کو نبیﷺ اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرئیلؑ نے اس کو (آپﷺ کے سامنے) پڑھا تھا۔ 
 (۶)۔ سید نا ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ تمام لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور تمام اوقات سے زیادہ آپﷺ رمضان میں سخی ہو جاتے تھے (خصوصاً) جب آپﷺ سے جبرئیل علیہ السلام (آ کر) ملتے تھے اور جبرئیل علیہ السلام  آپﷺ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے تھے اور آپﷺ سے قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔ تو یقیناً (اس وقت)  رسول اللہﷺ (خلق اللہ کی نفع رسانی میں) تندو تیز ہوا سے بھی زیادہ (سخاوت میں)  تیز ہوتے تھے۔ 
 (۷)۔ سیدنا ابن عباسؓ نے ابو سفیان بن حربؓ سے بیان کیا کہ ہر قل (شاہ روم)  نے ان کے پاس ایک آدمی بھیجا (اور وہ)  قریش کے چند سواروں میں (اس وقت بیٹھے ہوئے تھے)  اور وہ لوگ شام میں تاجر (بن گئے)  تھے (اور یہ واقعہ)  اس زمانہ میں (ہوا ہے)  جبکہ رسول اللہﷺ نے ابو سفیان اور (نیز دیگر)  کفار قریش سے ایک محدود عہد کیا تھا۔ چنانچہ سب قریش ہر قل کے پاس آئے اور یہ لوگ (اس وقت)  ایلیاء میں تھے۔ تو ہر قل نے ان کو اپنے دربار میں طلب کیا اور اس کے گرد سردار ان روم (بیٹھے ہوئے) تھے۔ پھر ان (سب قریشیوں)  کو اس نے (اپنے قریب)  بلایا اور اپنے ترجمان کو طلب کیا اور (قریشیوں سے مخاطب ہو کر) کہا کہ تم میں سب سے زیادہ اس شخص کا قریب النسب کون ہے جو اپنے کو نبی کہتا ہے ؟ ابو سفیانؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ان سب سے زیادہ (ان کا) قریب النسب ہوں (یہ سنکر)  ہر قل نے کہا کہ ابو سفیان کو میرے قریب کر دو اور اس کے ساتھیوں کو (بھی) قریب رکھو اور ان کو ابو سفیان کے پس پشت (کھڑا)  کرو۔ پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہو کہ میں ابو سفیان سے اس مرد کا حال پوچھتا ہوں (جو اپنے آپ کو نبی کہتا ہے) پس اگر یہ مجھ سے جھوٹ بیان کرے تو تم (فوراً) اس کی تکذیب کر دینا۔ (ابو سفیان)  کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم!اگر (مجھے)  اس بات کی شرم نہ ہوتی کہ لوگ میرے اوپر جھوٹ بولنے کا الزام لگائیں گے یقیناً میں آپﷺ کی نسبت غلط باتیں بیان کر دیتا۔ غرض سب سے پہلے جو ہر قل نے  مجھ سے پوچھا تھا،یہ تھا کہ ان کانسب تم لوگوں میں کیسا ہے ؟ میں نے کہا کہ وہ ہم میں عالی نسب ہیں۔ (پھر)  ہر قل نے کہا کہ کیا تم میں سے کسی نے ان سے پہلے بھی اس بات (یعنی نبوت)  کا دعویٰ کیا ہے ؟ میں نے کہا نہیں (پھر)  ہر قل نے کہا کہ کیا ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہے ؟میں نے کہا نہیں۔ (پھر)  ہر قل نے کہا کہ با اثر لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے یا کمزور لوگوں نے ؟ میں نے کہا (امیروں نے نہیں بلکہ)  کمزور لوگوں نے۔ (پھر)  ہر قل بولا کہ آیا ان کے پیرو (روز بروز)  بڑھتے جاتے ہیں یا گھٹتے جاتے ہیں ؟ میں نے کہا (کم نہیں ہوتے بلکہ)  زیادہ ہوتے جاتے ہیں۔ (پھر)  ہرقل نے پوچھا کہ آیا ان (لوگوں)  میں سے (کوئی)  ان کے دین میں داخل ہو نے کے بعد ان کے دین سے بد ظن ہو کر منحرف بھی ہو جاتا ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ (پھر)  ہرقل نے پوچھا کہ کیا وہ (کبھی)  وعدہ خلافی کرتے ہیں ؟میں نے کہا کہ نہیں۔ اور اب ہم ان کی طرف سے مہلت میں ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ اس (مہلت کے زمانہ)  میں کیا کریں گے (وعدہ خلافی یا وعدہ وفائی)  ابو سفیان کہتے ہیں کہ سوائے اس کلمہ کے اور مجھے موقع نہیں ملا کہ میں بات (آپﷺ کے حالات میں)  داخل کر دیتا۔ (پھر)  ہرقل نے پوچھا کہ کیا تم نے (کبھی)  اس سے جنگ کی ہے ؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ تو (ہرقل)  بو لا تمہاری جنگ اس سے کیسی رہتی ہے ؟میں نے کہا کہ لڑائی ہمارے اور ان کے درمیان ڈول (کے مثل)  رہتی ہے کہ (کبھی)  وہ ہم سے لے لیتے ہیں اور (کبھی)  ہم ان سے لے لیتے ہیں (یعنی کبھی ہم فتح پاتے ہیں اور کبھی وہ)  (پھر)  ہر قل نے پوچھا کہ وہ تم کو کیا حکم دیتے ہیں ؟ میں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور (شرکیہ باتیں و عبادتیں) جو تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے،سب چھوڑ دو اور ہمیں نماز (پڑھنے)  اور سچ بولنے اور پرہیز گاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ 
اس کے بعد ہرقل نے ترجمان سے کہا کہ ابو سفیان سے کہو کہ میں نے تم سے اس کا نسب پوچھا تو تم نے بیان کیا کہ وہ تمہارے درمیان میں (اعلیٰ)  نسب والے ہیں چنانچہ تمام پیغمبر اپنی قوم کے نسب میں اسی طرح (عالی نسب)  مبعوث ہوا کرتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا یہ بات (یعنی اپنی نبوت کی خبر)  تم میں سے کسی اور نے بھی ان سے پہلے کہی تھی؟تو تم نے بیان کیا کہ نہیں۔ میں نے (اپنے دل میں)  یہ کہا تھا کہ اگر یہ بات ان سے پہلے کوئی کہہ چکا ہوا تومیں کہہ دوں گا کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جو اس قول کی تقلید کرتے ہیں جو ان سے پہلے کہا جا چکا ہے اور میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ تھا؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں۔ پس میں نے (اپنے دل میں)  کہا تھا کہ ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ ہوا ہو گا تو میں کہہ دوں گا کہ وہ ایک شخص ہیں جو اپنے باپ دادا کا ملک (اقتدار حاصل کرنا)  چاہتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا اس سے پہلے کہ انھوں نے جو یہ بات (نبوت کا دعویٰ) کہی ہے،کہیں تم ان پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے ؟تو تم نے کہا کہ نہیں۔ پس (اب)  میں یقیناً جانتا ہوں کہ (کوئی شخص)  ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگوں سے تو جھوٹ بولنا (غلط بیانی)  چھوڑ دے اور اللہ پر جھوٹ بولے اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا بڑے (با اثر)  لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے یا کمزور لوگوں نے ؟ تم نے کہا کہ کمزور لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے اور (دراصل)  تمام پیغمبر کے پیرو یہی لوگ (ہوتے رہے)  ہیں اور میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے پیرو زیادہ ہوتے جاتے ہیں یا کم ؟ تو تم نے بیان کیا کہ زیادہ ہوتے جاتے ہیں اور (درحقیقت)  ایمان کا یہی حال (ہوتا)  ہے تا وقتیکہ کمال کو پہنچ جائے اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد ان کے دین سے ناخوش ہو کہ (دین سے)  پھر بھی جاتا ہے ؟تو تم نے بیان کیا کہ نہیں ! اور ایمان (کا حال)  ایسا ہی ہے جب اس کی بشاشت دلوں میں رچ بس جائے (تو پھر نہیں نکلتی)  اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا وہ وعدہ خلافی کرتے ہیں ؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں !اور (بات یہ ہے کہ)  اسی طرح تمام پیغمبر وعدہ خلافی نہیں کرتے اور میں نے تم سے پوچھا کہ وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں ؟ تو تم نے بیان کیا کہ وہ تمہیں یہ حکم دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو نیز تمہیں بتوں کی پرستش سے منع کرتے ہیں اور تمہیں نماز (پڑھنے)  سچ بولنے اور پرہیز گاری (اختیار کرنے)  کا حکم دیتے ہیں پس اگر جو تم کہتے ہو سچ ہے تو عنقریب وہ میرے ان دونوں قدموں کی جگہ کے مالک ہو جائیں گے اور بے شک میں (کتب سابقہ کی پیش گوئی سے)  جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والے ہیں مگر میں یہ نہ سمجھتا تھا کہ وہ تم میں سے ہوں گے۔ پس اگر میں جانتا کہ ان تک پہنچ سکوں گا تو میں ان سے ملنے کا بڑا اہتمام وسعی کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو یقیناً میں ان کے قدموں کو دھوتا۔ پھر ہر قل نے رسول اللہﷺ کا (مقدس)  خط،جو آپﷺ نے سید نا دحیہ کلبی کے ہمراہ میر بصریٰ کے پاس بھیجا تھا اور امیر بصریٰ نے اس کو ہر قل کے پاس بھیج دیا تھا،منگوایا (اور اس کو پڑھوایا)  تو اس میں (یہ مضمون)  تھا 
 ’’اللہ نہایت مہربان رحم والے کے نام سے ‘‘
 (یہ خط ہے)  اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر محمدﷺ کی طرف سے بادشاہ روم کی طرف۔ اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ بعد اس کے (واضح ہو کہ)  میں تم کو اسلام کی طرف بلاتا ہوں۔ اسلام لاؤ گے تو (قہر الٰہی سے)  بچ جاؤ گے اور اللہ تمہیں تمہارا ثواب دوگنا دے گا اور اگر تم (میری دعوت سے)  سے منہ پھیرو گے تو بلاشبہ تم پر (تمہاری)  تمام رعیت کے (ایمان نہ لانے)  کا گناہ ہو گا اور ’’اے اہل کتاب ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے یعنی یہ کہ ہم اور تم اللہ کے سوا کسی کی بند گی نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو سوائے اللہ کے پروردگار بنائے (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ)  پھر اگر اہل کتاب اس سے اعراض کریں تو تم کہہ دینا کہ اس بات کے گواہ رہو کہ ہم تو اللہ کی اطاعت کرنے والے ہیں ‘‘۔ (آل عمران:۶۴) 
ابو سفیان کہتے ہیں کہ ہر قل نے جو کچھ کہنا تھا،کہہ چکا اور (آپﷺ کا)  خط پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے ہاں بہت ہی شور ہونے لگا۔ آوازیں بلند ہوئیں اور ہم لوگ (وہاں سے)  نکال دیے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا،جب کہ ہم سب باہر کر دیے گئے،کہ (دیکھو تو)  ابو کبثہ کے بیٹے (یعنی محمدﷺ)  کا معاملہ و رتبہ ایسا بڑھ گیا کہ اس سے بنو اصفر (روم)  کا بادشاہ بھی خوف کھاتا ہے۔ پس ہمیشہ میں اس کا یقین رکھتا رہا کہ وہ عنقریب غالب ہو جائیں گے یہاں تک کہ اللہ نے مجھ کو مشرف بہ اسلام کر دیا۔ 
فرمایا اور ابن ناطور جو ایلیا ء کا حاکم،ہر قل کا مصاحب اور شام کے عیسائیوں کا پیر پادری ہے،وہ بیان کرتا ہے کہ ہرقل جب ایلیا ء میں آیا تو ایک دن صبح کو بہت پریشان خاطر اٹھا تو اس کے بعض خواص نے کہا کہ ہمیں (اس وقت)  آپ کی حالت کچھ اچھی دکھائی نہیں دیتی۔ ابن ناطور کہتا ہے کہ ہرقل کا ہن تھا،علم نجوم میں مہارت رکھتا تھا،تو اس نے اپنے خواص سے،جب کہ انھوں نے پوچھا یہ کہا کہ میں نے رات کو جب ستاروں میں نظر کی تو دیکھا کہ ختنہ کرنے والا بادشاہ غالب ہو گیا تو (دیکھو کہ) اس دور کے لوگوں میں ختنہ کون کرتا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ سوائے یہود کے کوئی ختنہ نہیں کرتا،سو یہود کی طرف سے آپ اندیشہ نہ کریں اور اپنے ملک کے بڑے بڑے شہروں میں (حاکموں کو)  لکھ بھیجئے کہ جتنے یہود  وہاں ہیں سب قتل کر دیے جائیں۔ پس وہ لوگ اپنی اسی منصوبہ بندی میں تھے کہ ہر قل کے پاس آدمی لایا گیا جسے غسان کے بادشاہ نے بھیجا تھا وہ رسول اللہﷺ کی خبر بیان کرتا تھا سو جب ہرقل نے اس سے یہ خبر معلوم کی تو (اپنے لوگوں سے)  کہا کہ جاؤ اور دیکھو کہ وہ ختنہ کیے ہوئے ہے یا نہیں ؟لوگوں نے اس کو دیکھا تو بیان کیا کہ وہ ختنہ کیے ہوئے ہے۔ اور ہرقل نے اس سے اہل عرب کا حال پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ ختنہ کرتے ہیں۔ تب ہرقل نے کہا کہ یہی (نبیﷺ)  اس دور کے لوگوں کا بادشاہ ہے جو ظاہر ہو گیا۔ پھر ہرقل نے اپنے دوست کو رومیہ (یہ حال)  لکھ بھیجا وہ علم (نجوم)  میں اسی کا ہم پلہ تھا اور (یہ لکھ کر)  ہر قل حمص کی طرف چلا گیا۔ پھر حمص سے باہر بھی نہیں جانے پایا تھا کہ اس کے دوست کا خط (اس کے جواب میں)  آگیا۔ وہ بھی نبیﷺ کے ظہور کے بارے میں ہرقل کی رائے کی موافقت کرتا تھا اور یہ (اس نے لکھا تھا)  کہ وہ نبی ہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے سردار ان روم کو اپنے محل میں جو حمص میں تھا طلب کیا اور حکم دیا کہ محل کے دروازے بند کر دیے جائیں،تو وہ بند کر دیے گئے،پھر ہرقل (اپنے بالا خانے)  نمودار ہو ا اور کہا کہ اے روم والو! کیا ہدایت اور کامیابی میں (کچھ حصہ)  تمہارا بھی ہے؟اور (تمہیں)  یہ منظور ہے)  کہ تمہاری سلطنت قائم رہے (اگر ایسا چاہتے ہو)  تو اس نبیﷺ کی بیعت کر لو۔ تو (اس کے سنتے ہی)  وہ لوگ وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے،کواڑوں کو بند پایا۔ بالآخر جب ہرقل نے (اس درجے)  ان کی نفرت دیکھی اور (ان کے)  ایمان لانے سے مایوس ہو گیا تو بولا کہ ان لوگوں کو میرے پاس واپس لاؤ اور (جب وہ آئے تو ان سے)  کہا کہ میں نے یہ بات ابھی جو کہی تو اس سے تمہارے دین کی مضبوطی کا امتحان لینا (مقصود)  تھا اور وہ مجھے معلوم ہو گئی۔ پس لوگوں نے اسے سجدہ کیا اور اس سے خوش ہو گئے اور ہرقل کی آخری حالت یہی رہی۔ 
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


Sunday, March 17, 2013

نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکے اور امام نہ آئے تو بیٹھ کر امام کا انتظار کریں کھڑے نہ رہیں



نماز کا بیان

نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکے اور امام نہ آئے تو بیٹھ کر امام کا انتظار کریں کھڑے نہ رہیں

عبد اللہ بن اسحاق ، ابو عاصم، ابن جریج، موسیٰ بن عقبہ، حضرت ابو النضر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تکبیر ہو جاتی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دیکھتے کہ مسجد میں لوگ کم ہیں تو بیٹھ جاتے اور نماز شروع نہ فرماتے اور جب دیکھتے کہ جماعت پوری ہو گئی تب نماز شروع فرماتے۔

عبد اللہ بن اسحاق ، ابو عاصم ابن جریج، موسیٰ بن عقبہ، نافع، ابن جبیر، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے مثل روایت ہے۔

ترک جماعت پر وعید

احمد بن یونس، زئدہ، سائب بن حبیش، معدان بن ابی طلحہ، حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمی کسی بستی یا جنگل میں ہوں اور پھر بھی وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے پس تم جماعت کو لازم کر لو کیونکہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو گلے سے الگ ہو زائدہ کہتے ہیں کہ سائب نے کہا جماعت سے مراد نماز با جماعت ہے۔

ترک جماعت پر وعید


عثمان بن ابی شیبہ، ابو معاویہ، اعمش، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں نے ارادہ کیا تھا کہ قیام نماز کا حکم دے کر اپنی جگہ کسی اور شخص کو نماز پڑھانے کے لیے کہوں اور اپنے ساتھ کچھ لوگ لے جاؤ جن کے ساتھ لکڑیوں کے گٹھڑ ہوں اور جا کر ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگا دوں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے۔

نفیلی، ابو ملیح، یزید بن یزید، یز ید بن اصم، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ اپنے نوجوانوں کو لکڑیوں کے گٹھے جمع کرنے کا حکم دوں اور پھر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو بلا عذر اپنے گھروں میں نماز پڑھتے ہیں اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ (یزید بن یزید کہتے ہیں کہ) میں نے یزید بن اصم سے پوچھا کہ اے ابو عوف جماعت سے نماز جمعہ مراد ہے یا عام جماعت کہا میرے کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے نہ سنا ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت ہے کرتے تھے لیکن انہوں نے نہ جمعہ کا تذکرہ کیا نہ کوئی اور نماز کا ۔

ہارون بن عباد، وکیع، مسعودی، علی بن اقمر، احوص، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا پانچوں نمازوں کی پابندی کرو جب ان کے لیے بلایا جائے (یعنی اذان دی جائے) کیونکہ یہ سنن ہدیٰ ہیں اور اللہ تعالی نے ان نمازوں کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے سنن ہدیٰ بنایا ہے اور ہم نے دیکھا کہ جماعت کی نماز میں صرف وہی لوگ نہ آتے تھے جن کا نفاق کھلا ہوا تھا اور ہم دیکھتے تھے کہ کسی کو تو دو دو آدمی سہارا دے کر لاتے تھے اور اس کو صف میں کھڑا کرتے تھے تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے گھر میں نماز پڑھنے کی جگہ نہ ہو لیکن اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو گے اور مسجدوں کو چھوڑ دو گے تو تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے طریقہ کو چھوڑ دو گے اور اگر تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے طریقہ کو چھوڑ دو گے تو کفر کا کام کرو گے۔

قتیبہ، جریر، ابو جناب، عدی بن ثابت، سعید، بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب کوئی شخص اذان کی آواز سنے اور نماز کے لیے نہ جائے باوجود اس کے کہ کوئی عذر (خوف یا بیماری) بھی نہ ہو تو اس کی تنہا پڑھی ہوئی نماز قبول نہ ہو گی۔

سلیمان بن حرب، حماد بن زید، عاصم بن بہدلہ، ابو رزین، حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں نابینا ہوں اور میرا گھر دور ہے اور جو مجھ کو لے کر آتا ہے وہ میرا تابع نہیں ہے تو کیا ایسی صورت میں میرے لیے گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا کہ کیا تو اذان کی آواز سنتا ہے؟ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہا ہاں (میں اذان کی آواز سنتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تب میں تیرے لیے کوئی گنجائش نہیں پاتا۔

ہارون بن زید، ابی زرقا، سفیان، عبد الرحمن بن عابس، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ میں زہریلے کیڑے اور درندے بہت ہیں (تو کیا میرے لیے گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، تو حَیَّ عَلَی الصَّلوٰة، حَیَّ عَلَی الفَلَاح کی آواز سنتا ہے تو ضرور آ۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس کو سفیان سے قاسم جرمی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے

نماز با جماعت کی فضیلت

حفص بن عمر، شعبہ، ابو اسحاق ، عبداللہ بن ابی نصیر، ابی بن کعب، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہم کو ایک دن فجر کی نماز پڑھائی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا فلاں شخص حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا کہ فلاں شخص موجود ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ دو نمازیں (عشاء فجر) منافقین پر بہت بھاری ہوتی ہیں اگر تم جان لیتے کہ (خاص طور پر) ان دو نمازوں کا کتنا ثواب ہے تو تم گھٹنوں کے بل چل کر بھی آتے اور صف اول (قربت و ثواب میں) فرشتوں کی صف کی طرح ہے اور اگر تم جان لیتے کہ (صف اول کی شرکت کی) کتنی فضیلت ہے تو یقیناً تم اس کی طرف سبقت کرتے اور دو آدمیوں کا مل کر نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے افضل ہے اور تین آدمیوں کا مل کر نماز پڑھنا دو آدمیوں کے مل کر نماز پڑھنے سے افضل ہے اور نماز میں جس قدر بھی لوگ ہوں گے اللہ کے نزدیک وہ نماز اتنی ہی پسندیدہ ہو گی۔

احمد بن حنبل، اسحاق بن یوسف، سفیان، ابی سہل، عثمان بن حکیم، عبدالرحمن بن ابی عمرہ، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص عشاء کی نماز جماعت سے ادا کرے گا گویا اس نے آدھی رات تک عبادت کی اور جو شخص عشاء و فجر کی نماز جماعت سے ادا کرے گا تو گویا اس نے تمام رات عبادت میں گذاری۔

نماز کے لیے پیدل جانے کی فضیلت

مسدد، یحیی، ابن ابی ذئب، عبدالرحمن بن مہران، عبدالرحمن بن سعد، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ آدمی مسجد میں جتنا دور سے آتا ہے (تو آنے جانے میں قدم اٹھاتا ہے اسی قدر ثواب ملتا ہے)۔

عبد اللہ بن محمد، زہیر، سلیمان، ابو عثمان، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری نظر میں مدینہ کے لوگوں میں نمازیوں میں سے کسی کا مکان مسجد سے اتنا دور نہ تھا جتنا کہ ایک شخص کا تھا مگر اس کی جماعت ناغہ نہ ہوتی تھی میں نے اس سے کہا کہ اگر تم ایک گدھا خرید لو جس پر گرمی کی شدت اور تاریکی کی بنا پر تم سوار ہو کر مسجد آ سکو تو بہتر ہو گا اس نے کہا مجھے یہ پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد سے متصل ہو یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک بھی پہنچی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سے پوچھا تیرا اس قول سے کیا مقصد تھا؟ وہ بولا یا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میری غرض اس سے یہ تھی کہ مجھے مسجد میں آنے اور جانے کا ثواب ملے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ سن کر فرمایا کہ اللہ نے تجھے وہ سب عطاء فرمادیا جو تو نے اس سے چاہا۔

ابو توبہ ہثیم بن عبد اللہ، یحیی بن حارث، قاسم ابی عبدالرحمن ابی امامہ، حضرت ابو عمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنے گھر سے وضو کر کے فرض نماز کی نیت سے نکلے گا اس کو اس قدر ثواب ملے گا جتنا کہ احرام باندھ کر حج پر جانے کا ہوتا ہے اور جو شخص نفل نماز کی نیت سے نکلے گا صرف سی کا قصد کرتے ہوئے تو اس کو ایسا ثواب ملے گا جیسا کہ عمرہ کرنے والے کو ملتا ہے اور جو نماز ایک نماز کے بعد ہو اور درمیان میں کوئی لغو اور بیہودہ کام نہ ہو تو وہ نماز علیین میں لکھی جائے گی۔

مسدد، ابو معاویہ، اعمش، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ کسی شخص کا جماعت سے نماز پڑھنا اسکا گھر پر یا بازار (دکان) میں تنہا نماز پڑھنے سے پچیس درجہ فضیلت رکھتا ہے اس لئے کہ جب تم سے کوئی اچھی طرح وضو کرتا ہے اور محض نماز ہی کی خاطر مسجد میں جاتا ہے تو اس کے ہر قدم پر اسکا ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے اور جب وہ مسجد میں پہنچ گیا تو گویا وہ نماز ہی کی حالت میں ہے۔ جب تک کہ وہ مسجد میں نماز کے لیے رکا رہے اور جب تک وہ اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے تب تک فرشتے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی مغفرت فرما، اس پر رحم فرما، اور اس کی توبہ قبول فرما، (اور دعا کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے) جب تک کہ وہ کسی کو کوئی ایذاء نہ پہنچائے یا اس کو کوئی حدث لاحق نہ ہو۔

محمد بن عیسی، ابو معاویہ، ہلال بن میمون، عطاء بن یزید، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جماعت کی نماز پچیس نمازوں کے برابر ہے اور جب نماز جنگل میں پڑھی جائے اور رکوع و سجود اچھی طرح ادا کیے جائیں تو اسکا ثواب پچاس نمازوں کے برابر ہو گا ابو داؤد کہتے ہیں کہ عبدالواحد بن زیاد نے اس حدیث میں کہا ہے کہ جنگل میں آدمی کی نماز جماعت کی نماز سے ثواب میں دوچند زیادہ 
کی جاتی ہے پھر آخر تک حدیث بیان کی۔
 ابو داؤدؒ 

نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وضو کی کیفیت کا بیان



نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وضو کی کیفیت کا بیان


محمد بن مثنی، ضحاک بن مخلد، عبدالرحمن بن وردان، ابو سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت حمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو وضو صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کرتے ہوئے دیکھا ہے اور مذکورہ حدیث بیان کی مگر اس میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر نہیں کیا اور اس روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سر پر تین مرتبہ مسح کیا اور پھر تین مرتبہ پاؤں دھوئے اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو اس سے کم وضو کرے گا تو بھی کافی ہے (یعنی اعضائے وضو کو بجائے تین تین مرتبہ دھونے کے ایک یا دو مرتبہ دھوئے) اور اس روایت میں نماز (تحیت الوضو) کا ذکر نہیں ہے۔

محمد بن داؤد، زیاد بن یونس، سعید بن موذن حضرت عثمان بن عبدالرحمن تیمی سے روایت ہے کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کسی نے ان سے طریقہ وضو کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے پانی منگوایا تب ایک لوٹا لایا گیا انھوں نے اس لوٹے کو اپنے داہنے ہاتھ پر جھکایا (یعنی دایاں ہاتھ دھویا) پھر داہنے ہاتھ کو برتن میں ڈال کر پانی لیا تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ دایاں ہاتھ دھویا پھر بایاں ہاتھ تین مرتبہ دھویا پھر (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے) برتن میں ہاتھ ڈال کر پانی لیا اور اپنے سر اور کانوں کا اندرونی و بیرونی حصہ پر ایک مرتبہ مسح کیا پھر دونوں پاؤں دھوئے اس کے بعد دریافت فرمایا کہ وضو کے متعلق پوچھنے والے کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ وضو کے سلسلہ میں جو احادیث صحیحہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں وہ سب کی سب اس پر دلالت کرتی ہیں کہ سر کا مسح ایک مرتبہ ہے کیونکہ تمام راویوں نے اعضاء وضو کا تین مرتبہ دھونا ذکر کیا ہے مگر سر کے مسح کے بارے میں صرف اتنا کہا ہے کہ سر کا مسح کیا یعنی سر کے مسح میں کوئی عدد ذکر نہیں کیا جیسا کہ دیگر ارکان میں کیا ہے۔

ابراہیم بن موسی، عیسی، عبید اللہ ابن ابی زیاد، حضرت ابو علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور وضو کیا تو پہلے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تین تین مرتبہ اور اعضائے وضو کو تین تین مرتبہ دھونے کا ذکر کیا اور سر کا مسح کیا اور دونوں پاؤں دھوئے اور فرمایا کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسی طرح وضو کیا تھا جیسا کہ تم نے مجھے اس وقت وضو کرتے دیکھا اور باقی حدیث زہری کی حدیث کی مانند بیان کی (یہ حدیث زہری کی حدیث سے زیادہ) مکمل ہے۔

ہارون بن عبد اللہ، یحیی بن آدم، اسرائیل، عامر بن شقیق بن جمرہ، شقیق بن سلمہ، حضرت سلمہ بن شفیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوئے اور تین ہی مرتبہ سر کا مسح کیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے ابو داؤد کہتے ہیں کہ وکیع نے اسرائیل سے اس روایت کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے تین تین مرتبہ دھونے کا ذکر کیا ہے (مطلقاً مسح کے لیے مستقل طور پر تین مرتبہ کرنے کا ذکر نہیں ہے)۔

مسدد، ابو عوانہ، خالد بن علقمہ، حضرت عبد خیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے آپ اسی وقت نماز سے فارغ ہوئے تھے تبھی آپ نے وضو کے لیے پانی طلب کیا میں نے دل میں سوچا کہ پتہ نہیں آپ پانی کو کیا کریں گے کیونکہ آپ ابھی ابھی نماز سے فارغ ہوئے ہیں سوچا کہ شاید ہم کو کچھ سکھانا مقصود ہو۔ اتنے میں ایک برتن میں پانی اور ایک طشت لایا گیا تو آپ نے اس برتن سے داہنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک تین مرتبہ دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تین تین مرتبہ اسی داہنے ہاتھ سے جس میں پانی لیتے تھے ہر تین مرتبہ منہ دھویا پھر تین مرتبہ داہنا ہاتھ اور تین ہی مرتبہ بایاں ہاتھ دھویا پھر برتن میں ہاتھ ڈال کر (پانی لیا) اور ایک مرتبہ سر کا مسح کیا پھر داہنا پاؤں تین مرتبہ دھویا اور بایاں پاؤں تین مرتبہ دھویا اور فرمایا جو شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وضو کا طریقہ معلوم کر کے خوش ہونا چاہتا ہے تو وہ طریقہ یہی ہے

حسن بن علی، حسین بن علی، زائدہ، خالد بن علقمہ، حضرت عبدخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ صبح کی نماز پڑھ کر رحبہ گئے آپ نے پانی منگوایا ایک لڑکا پانی کا برتن اور طشت لے کر آیا آپ نے پانی کا برتن داہنے ہاتھ میں لیا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا پھر داہنا ہاتھ برتن کر اندر ڈال کر پانی لیا اور تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا اس کے بعد (اس حدیث کے راوی زائدہ نے) ابو عوانہ کی روایت کے قریب قریب بیان کیا (زائدہ نے کہا) پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سر کے اگلے اور پچھلے حصہ پر ایک بار مسح کیا پھر زائدہ نے باقی حدیث ابو عوانہ کی مانند بیان کی۔

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، مالک بن عرفطہ، حضرت عبدخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے کرسی لائی گئی آپ اس پر بیٹھ گئے اس کے بعد پانی کا ایک پیالہ لایا گیا جس سے آپ نے تین مرتبہ ہاتھ دھوئے پھر ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور (شعبہ نے آگے پوری) حدیث بیان کی۔

عثمان بن ابی شیبہ، ابو نعیم، ربیعہ، منہال بن عمرو، حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا جب کہ ان سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کیفیت وضو کے بارے میں دریافت کیا گیا تو (حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ نے) وضو والی پوری حدیث بیان کی (البتہ اس میں یہ اضافہ کیا کہ) انہوں نے سر کا مسح کیا یہاں تک کہ پانی ٹپکنے والا ہی تھا اور تین مرتبہ دونوں پاؤں دھوئے پھر فرمایا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وضو ایسا ہی تھا۔

زیاد بن ایوب، عبید اللہ بن موسی، فطر، ابو فروہ، حضرت ابو عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا انہوں نے تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا اور تین مرتبہ کہنیوں تک ہاتھ دھوئے اور ایک مرتبہ سر کا مسح کیا پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسی طرح وضو کیا تھا۔

مسدد، ابو توبہ، ابو احوص، عمرو بن عون، ابو اسحاق ، حضرت ابو حیّہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا ہے ان کا پورا وضو تین تین مرتبہ تھا (یعنی انہوں نے تمام اعضائے وضو تین تین مرتبہ دھوئے) پھر سر کا مسح کیا پھر دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے اس کے بعد (حضرت علی رضی اللہ عنہ) فرمایا کہ میری خواہش تھی کہ تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا طریقہ وضو دکھاؤں۔

عبدالعزیز بن یحیی، محمد، ابن سلمہ، محمد، بن اسحاق ، محمد بن طلحہ بن یزید بن رکانہ، حضرت ابن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے جبکہ آپ پیشاب سے فارغ ہو کر تشریف لائے تھے آپ نے وضو کے لیے پانی مانگا چنانچہ ہم ایک برتن میں پانی لائے اور ان کے سامنے رکھ دیا آپ نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ کیا میں تم کو نہ دکھاؤں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ میں نے کہا ضرور تو حضرت علی رضی اللہ عنہ برتن جھکا کر اپنے (داہنے) ہاتھ پر پانی ڈالا اور اس کو دھویا پھر داہنا ہاتھ برتن میں ڈال کر پانی لیا اور بائیں ہاتھ پر ڈال کر دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اس کے بعد دونوں ہاتھ برتن میں ڈال کر چلو بھر کر پانی لیا اور اپنے منہ پر ڈالا پھر دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اندر سامنے کے رخ پر پھیرا پھر دوسری مرتبہ ایسا ہی کیا پھر داہنے ہاتھ میں ایک چلو پانی لے کر پیشانی پر ڈالا اور اس کو چہرہ پر بہتا ہوا چھوڑ دیا پھر تین مرتبہ دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے پھر سر پر اور کانوں کی پشت پر مسح کیا پھر دونوں ہاتھ برتن میں ڈال کر چلو بھر پانی اپنے پاؤں پر مارا اس حال میں کہ وہ پاؤں میں جوتا پہنے ہوئے تھے اور اس چلو کے پانی سے پاؤں رگڑ کر دھوئے ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا پاؤں دھونا آپ نے جوتا پہنے پہنے کیا تھا؟ فرمایا ہاں جوتا پہنے پہنے میں نے پھر پوچھا کیا جوتا پہنے پہنے؟ فرمایا ہاں جوتا پہنے پہنے میں نے مزید استفسار کیا کہ کیا جوتا پہنے پہنے؟ جواب ملا ہاں جوتا پہنے پہنی ابو داؤد کہتے ہیں کہ شیبہ سے ابن جریج کی روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث سے مشابہ ہے جس میں حجاج ابن محمد نے ابن جریج سے نقل کیا ہے کہ آپ نے سر کا مسح ایک مرتبہ کیا اور ابن وہب نے (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں) ابن جریج کے واسطہ سے تین مرتبہ مسح نقل کیا ہے۔

عبد اللہ بن مسلمہ، مالک، عمرو بن یحیی، عبداللہ بن زید بن عاصم، عمرو بن یحیی مازنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید سے جو کہ عمرو بن یحیی مازنی کہ دادا تھے کہا کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے؟ عبداللہ بن زید نے کہا ہاں اس کے بعد انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیلا پھر ان کو دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تین تین مرتبہ، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا پھر دونوں ہاتھ دھوئے دو دو مرتبہ کہنیوں تک، پھر دونوں ہاتھوں سے سر پر مسح کیا یعنی پہلے دونوں ہاتھوں کو آگے سے پیچھے کی جانب لے گئے اور پھر پیچھے سے آگے کی جانب لائے یعنی سر کے سامنے والے حصہ سے مسح شروع کیا اور ہاتھوں کو گدی تک لائے اور پھر اسی جگہ لوٹا لائے جہاں سے مسح شروع کیا تھا اور اس کے بعد دونوں پاؤں دھوئے۔

مسدد، خالد عمرو بن یحیی، عبداللہ بن زید بن عاصم، عمرو بن یحیی مازنی اپنے والد سے اور وہ عبداللہ بن زید سے بن عاصم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور تین مرتبہ ایسا ہی کیا پھر باقی حدیث پہلی حدیث کی طرح بیان کی۔

احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، عمرو بن حارث، حبان بن واسع، حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا ہے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وضو کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سر کا مسح نیا پانی لے کر کیا (یعنی اس پانی سے مسح نہیں کیا جو ہاتھ میں پہلے سے لگا ہوا تھا) اور دونوں پاؤں کو (رگڑ کر) دھویا یہاں تک کہ ان کو بالکل صاف و شفاف بنا دیا۔

احمد بن محمد بن حنبل، ابو مغیرہ، حضرت مقدام بن معدیکرب کندی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وضو کیا تو پہلے دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک تین مرتبہ دھویا اور پھر چہرہ کو تین مرتبہ دھویا پھر تین تین مرتبہ دونوں ہاتھوں کو دھویا پھر تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر سر کا مسح کیا اور کانوں کا بھی اندر اور باہر سے۔

محمود بن خالد یعقوب بن کعب، ولید بن مسلم، حریز بن عثمان، عبدالرحمن بن میسرہ، مقدام بن عدی، حضرت مقدام بن معدیکرب کندی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے تو جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وضو کرتے ہوئے سر کے مسح پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی دونوں ہتھیلیوں کو سر کے اگلے حصہ پر رکھ کر ان کو پیچھے کی طرف لائے یہاں تک کہ گدی تک پہنچ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دونوں ہاتھوں کو واپس اسی جگہ لائے جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسح شروع کیا تھا اس حدیث کے ایک راوی محمود نے بیان کیا ہے کہ (ولید بن مسلم نے) لفظ اخبرنی کا اضافہ کر کے اخبرنی حریز نقل کیا ہے۔

محمود بن خالد، ہشام بن خالد، ولید، محمود بن خالد اور ہشام بن خالد سابقہ روایت کے مضمون کے نقل کرنے میں اتفاق کرتے ہوئے بیان کیا کہ ولید نے مذکورہ اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دونوں کانوں کے ظاہر و باطن دونوں طرف کا مسح کیا اور ہشام نے یہ اضافہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کان کے سوراخ میں انگلیوں کو داخل فرمایا۔

مومل بن فضل، ولید بن مسلم، مغیرہ بن فروہ، یزید بن ابو مالک، معاویہ، ابو الازہر المغیرہ بن فروہ رضی اللہ عنہ، یزید بن ابی مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دکھانے کے لیے وضو کیا جیسا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو کرتے دیکھا تھا جب سر کے مسح تک پہنچے تو بائیں ہاتھ سے ایک چلو پانی لے کر سر کے درمیانی حصہ پر ڈالا یہاں تک کہ پانی بہنے لگا یا بہنے کے قریب ہو گیا پھر مسح کیا آگے سے پیچھے کی طرف اور پیچھے سے آگے کی طرف۔

محمود بن خالد، حضرت ولید بن مسلم رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ روایت ہے کہ (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے) وضو کیا تین تین مرتبہ (یعنی تمام اعضاء تین بار) اور دونوں پاؤں دھوئے اور راوی نے عدد ذکر نہیں کیا

مسدد، بشر بن مفضل، عبداللہ بن محمد بن عقیل، حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے پاس تشریف لاتے تھے ربیع نے واقعہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا وضو کے لیے پانی لاؤ ربیع نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وضو کا طریقہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تین مرتبہ ہاتھ پہنچے تک اور تین مرتبہ منہ دھویا اور ایک مرتبہ کلی کی اور ایک مرتبہ ناک میں پانی ڈالا اور تین مرتبہ دونوں ہاتھ دھوئے اور دو بار سر کا مسح کیا اس طرح کہ پہلے پیچھے سے شروع کیا اور پھر آگے سے پھر دونوں کانوں کا مسح کیا اندر اور باہر اور تین مرتبہ دونوں پاؤں دھوئے ابو داؤد کہتے ہیں کہ مسدد کی روایت کے معنی یعنی مضمون و مطلب یہی ہے غالباً مسدد کے بیان کردہ الفاظ یاد نہیں رہے۔

اسحاق بن اسماعیل، سفیان، حضرت ابن عقیل سے بھی یہ روایت مذکور ہے جس میں بشر کی حدیث سے بعض جگہ اختلاف ہے اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں ڈالا۔

قتیبہ بن سعید، یزید بن خالد، لیث ابن عجلان، عبداللہ بن محمد بن عقیل، حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے سامنے وضو کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پورے سر کا مسح کیا اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سر کا مسح اوپر سے شروع کرتے اور بالوں کی روش پر سر کے ہر حصہ تک ہاتھ لے جاتے لیکن بالوں کو اپنی جگہ سے حرکت نہ دیتے۔

قتیبہ بن سعید، بکر ابن مضر، ابن عجلان، عبداللہ بن محمد بن عقیل، حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ان کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسح کیا سر پر آگے اور پیچھے اور کنپٹیوں پر اور کانوں پر ایک مرتبہ۔

مسدد، عبداللہ بن داؤد، سفیان بن سعید، ابن عقیل، حضرت ربیع سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سر پر اس تری سے مسح کیا جو ان کے ہاتھ میں بچی رہ گئی تھی۔

ابراہیم بن سعید، وکیع، حسن بن صالح، عبداللہ بن محمد بن عقیل، حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وضو کیا اور اپنی انگلیوں کو کان کے سوراخ میں ڈالا۔

محمد بن عیسی، مسدد، عبد الوارث، لیث طلحہ بن مصرف، حضرت طلحہ کے دادا کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک مرتبہ سر کا مسح کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گردن کے سرے تک پہنچ جاتے تھے۔ مسدد کی روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سر کا مسح کیا آگے سے پیچھے تک یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے نیچے سے نکالا۔ مسدد نے کہا ہے کہ میں نے یہ حدیث یحیی سے بیان کی انہوں نے اسے منکر کہا ابو داؤد کہتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا وہ فرماتے تھے کہ علماء کا خیال ہے کہ ابن عیینہ اس حدیث سے انکار کرتے ہیں اور وہ کہتے تھے کہ یہ طریق سند یعنی طلحہ عن ابیہ عن جدہ کیا چیز ہوتی ہے؟ یعنی اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

حسن بن علی، یزید بن ہارون، عباد بن منصور، عکرمہ، بن خالد، سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے (ابو داؤد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے) حدیث ذکر کی اور اس میں تمام اعضائے وضو کو تین تین مرتبہ دھونا ذکر کیا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سر اور کانوں کا ایک ہی مسح کیا تھا۔

امام ابو داؤدؒ



امام ابو داؤدؒ








تعارف

نام و نسب
ابو داؤد کنیت،سلیمان نام اور والد کا اسم گرامی اشعث ہے سلسلہ نسب یہ ہے ۔ ابو داؤد سلیمان بن اشعث بن اسحق بن بشیر بن شداد بن عمرو بن عمران الازدی سبحستانی۔

سن پیدائش
امام ابو داؤد سیستان میں ٢٠٢ھ میں پیدا ہوئے لیکن آپ نے زندگی کا بڑا حصہ بغداد میں گزازا اور وہیں اپنی سنن کی تالیف کی اسی لیے ان سے روایت کرنے والوں کی اس اطراف میں کثرت ہے پھر بعض وجوہ کی بنا پر ٢٧١ھ میں بغداد کو خیر باد کہا اور زندگی کے آخری چار سال بصرے میں گزارے جو اس وقت علم وفن کے لحاظ سے مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔

تحصیل علم
آپ نے جس زمانہ میں آنکھیں کھولیں اس وقت علم حدیث کا حلقہ بہت وسیع ہو چکا تھا۔ آپ نے بلاد اسلامیہ میں عموماً اور مصر،شام،حجاز،عراق،خراسان اور جزیرہ وغیرہا میں خصوصیت کے ساتھ کثرت سے گشت کر کے اس زمانہ کے تمام مشاہیر اساتذہ و شیوخ سے علم حدیث حاصل کیا صاحب کمال نے لکھا ہے کہ بغداد متعدد بار تشریف لائے۔


اساتذہ و شیوخ
امام ابو داؤد تحصیل علم کے لیے جن اکابر و شیوخ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کا استقصاء دشوار ہے خطیب تبریزی فرماتے ہیں کہ انہوں نے بے شمار لوگوں سے حدیثیں حاصل کیں ،ان کی سنن اور دیگر کتابو ں کو دیکھ کر حافظ ابن حجر کے اندازے کے مطابق ان کے شیوخ کی تعداد تین سو سے زائد ہے۔ آپ کے اساتذہ میں مشائخ بخاری و مسلم جیسے امام احمد بن حنبل،عثمان بن ابی شیبہ،قتیبہ بن سعید اور قعنبی ابو الولید طیاسی،مسلم بن ابراہیم اور یحییٰ بن معین جیسے ائمہ فن داخل ہیں۔

فن حدیث میں کمال
ابراہیم حربی نے جو اس زمانہ کے عمدہ محدثین میں سے ہیں جب سنن ابو داؤد کو دیکھا تو فرمایا کہ ''ابو داؤد کے لیے حق تعالیٰ نے علم حدیث ایسا نرم کر دیا ہے جیسے حضرت داؤد علیہ السلام کے لیے لوہا ہوا تھا''حافظ ابو طاہر سلفی نے اس مضمون کو پسند کر کے اس قطعہ میں نظم کیا

  لان الحدیث وعلمہ بکمالہ   
لامام اہلیہ ابو داؤد
  مثل الذی لان الحدید وسبکہ 
لبنی اہل زمانہ داؤد

فقہی ذوق
اصحاب صحاح ستہ کی نسبت امام ابو داؤد پر فقہی ذوق زیادہ غالب تھا،چنانچہ تمام ارباب صحاح ستہ میں صرف یہی ایک بزرگ ہیں جن کو علامہ شیخ ابو اسحق شیرازی نے طبقات الفقہاء میں جگہ دی ہے امام ممدوح کے اسی فقہی ذوق کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب کو صرف احادیث احکام کے لیے مختص فرمایا،فقہی احادیث کا جتنا بڑا ذخیرہ اس کتاب (سنن )میں موجود ہے صحاح ستہ میں سے کسی کتاب میں آپ کو نہیں ملے گا،چنانچہ حافظ ابو جعفر بن زبیر غرناطی متوفی ٧٠٨ھ صحاح ستہ کی خصوصیات پر تبصرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں اور احادیث فقہیہ کے حصرو استیعاب کے سلسلے میں ابو داؤد کو جو بابت حاصل ہے وہ دوسرے مصنفین صحاح ستہ کو نہیں علامہ یافعی فرماتے ہیں کہ آپ حدیث وفقہہ دونوں کے سرخیل تھے۔

زہد و تقویٰ
ابو حاتم فرماتے ہیں کہ امام موصوف حفظ حدیث،اتقان روایت،زہد و عبادت اور یقین وتوکل میں یکتائے روزگار تھے۔ ملاعلی قاری فرماتے ہیں کہ ورع و تقویٰ،عفت و تقوی! عبادت کے بہت اونچے مقام پر فائز تھے۔ ان کی زندگی کا مشہور واقعہ ہے کہ ان کے کرتے کی ایک آستین تنگ تھی اور ایک کشادہ جب اس کا راز دریافت کیا گیا تو بتایا کہ ایک آستین میں اپنے نوشتے رکھ لیتا ہوں اس لیے اس کو کشادہ بنا لیا ہے اور دوسری کو کشادہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی اس میں کوئی فائدہ نہ تھا اس لیے اس کو تنگ ہی رکھا۔

  جو گنج قناعت میں ہیں تقدیر پر شاکر   
 ہے ذوق برابر انہیں کم اور زیادہ

آپ کے فضل و کمال کا اعتراف
ابو داؤد کو علم و عمل میں جو امتیازی مقام حاصل تھا اس زمانہ کے علماء مشائخ کو بھی اس کا پورا پورا اعتراف تھا چنانچہ حافظ موسیٰ بن ہارون جو ان کے معاصر تھے فرماتے ہیں کہ ابو داؤد دنیا میں حدیث کے لیے اور آخرت میں جنت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں میں نے ان سے افضل کسی کو نہیں دیکھا امام حاکم فرماتے ہیں کہ امام ابو داؤد بلا شک و ریب اپنے زمانہ میں محدثین کے امام تھے۔

اہل اللہ کی سچی عقیدت
احد بن محمد بن لیث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سہل بن عبداللہ تستری جو اس زمانہ کے اہل اللہ میں سے تھے آپ کی خدمت میں تشریف لائے اور عرض کیا: امام صاحب میں ایک ضرورت سے آیا ہوں اگر حسب امکان پوری کرنے کا وعدہ فرمائیں تو عرض کروں ۔ آپ نے وعدہ کر لیا انہوں نے کہا کہ جس مقدس زبان سے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث روایت کرتے ہیں اس کو بوسہ دینے کی آرزو رکھتا ہوں ذرا آپ اسے باہر نکالیں چنانچہ آپ نے اپنی زبان مبارک باہر نکالی اور حضرت سہل نے اس کو بوسہ دیا۔

وفات
امام ابو داؤد نے تہتر سال کی عمر پا کر سولہ شوال ٢٧٥ھ میں انتقال فرمایا اور بصرہ میں امام سفیان ثوری کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ یوم وفات روز جمعہ ہے۔ 

مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو تیرا  
نور سے معمور یہ خاکی شبستان ہو تیرا    (اقبال)

تصنیفات
امام ابو داؤد نے بہت سا علمی ذخیرہ اپنی یادگار چھوڑا ہے جس کی مجمل فہرست درج ذیل ہے۔ مراسیل ۔ الردعلی القدریہ۔ الناسخ والمنسوخ۔ ماتضروبہ اہل الامصار۔ فضائل الانصار۔ مسند مالک بن انس۔ المسائل معرفۃ الاوقات۔کتاب بدء الوحی سنن ۔ ان میں سب سے زیادہ اہم آپ کی سنن ہے۔"