Wednesday, March 20, 2013

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ اے چچا تم ایک کلمہ لا الٰہ الا للہ کہہ دو


3: سعید بن مسیب (جو مشہور تابعین میں سے ہیں)اپنے والد (سیدنا مسیب صبن حزن بن عمرو بن عابد بن عمران بن مخزوم قرشی مخزومی، جو کہ صحابی ہیں) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ جب ابو  طالب بن عبدالمطلب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے حقیقی چچا اور مربی) مرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ان کے پاس تشریف لائے اور وہاں ابو  جہل (عمرو بن ہشام) اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو بیٹھا دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ اے چچا تم ایک کلمہ لا الٰہ الا للہ کہہ دو، میں اللہ کے پاس اس کا گواہ رہوں گا تمہارے لئے (یعنی اللہ عزوجل سے قیامت کے روز عرض کروں گا کہ ابو  طالب موحد تھے اور ان کو جہنم سے نجات ہونی چاہیئے انہوں نے آخر وقت میں کلمہ توحید کا اقرار کیا تھا)۔ ابو  جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولے کہ اے ابو  طالب! عبدالمطلب کا دین چھوڑتے ہو؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم برابر یہی بات ان سے کہتے رہے (یعنی کلمہ توحید پڑھنے کے لئے اور ادھر ابو  جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ اپنی بات بکتے رہے) یہاں تک کہ ابو  طالب نے اخیر بات جو کی وہ یہ تھی کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں اور انکار کیا لا الٰہ الا اللہ کہنے سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لئے دعا کروں گا (بخشش کی) جب تک کہ منع نہ ہو۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری’’ پیغمبر اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں، اس امر کے ظاہر ہو جانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں ‘‘ (التوبۃ: 113) اور اللہ تعالی ٰنے ابو  طالب کے بارے میں یہ آیت اتاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے فرمایا کہ’’ آپ (صلی اللہ علیہ والہ و سلم) جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے ‘‘ (القصص: 56)۔ 

باب: ایمان کا پہلا رکن لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے



1: ابو  جمرہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس ؓ کے سامنے ان کے اور لوگوں کے بیچ میں مترجم تھا (یعنی اوروں کی بات کو عربی میں ترجمہ کر کے سیدنا ابن عباس ؓ کو سمجھاتا) اتنے میں ایک عورت آئی اور گھڑے کے نبیذ کے بارہ میں پوچھا۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا کہ عبدالقیس کے وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے پوچھا کہ یہ وفد کون ہیں ؟ یا کس قوم کے لوگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ ربیعہ کے لوگ ہیں آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ مرحبا ہو قوم یا وفد کو جو نہ رسوا ہوئے نہ شرمند ہوئے (کیونکہ بغیر لڑائی کے خود مسلمان ہونے کے لئے آئے، اگر لڑائی کے بعد مسلمان ہوتے تو وہ رسوا ہوتے، لونڈی غلام بنائے جاتے، مال لٹ جاتا تو شرمندہ ہوتے) ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ! ہم آپ کے پاس دور دراز سے سفر کر کے آتے ہیں اور ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے درمیان میں کافروں کا قبیلہ مضر ہے تو ہم نہیں آ سکتے آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم تک، مگر حرمت والے مہینہ میں (جب لوٹ مار نہیں ہوتی) اس لئے ہم کو حکم کیجئے ایک صاف بات کا جس کو ہم بتلائیں اور لوگوں کو بھی اور جائیں اس کے سبب سے جنت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ان کو چار باتوں کا حکم کیا اور چار باتوں سے منع فرمایا۔ ان کو حکم کیا اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لانے کا اور ان سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ ایمان کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ ایمان گواہی دینا ہے اس بات کی کہ سوا اللہ کے کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم اس کے بھیجے ہوئے ہیں اور نماز کا قائم کرنا اور زکوٰۃ کا دینا اور رمضان کے روزے رکھنا (یہ چار باتیں ہو گئیں، اب ایک پانچویں بات اور ہے) اور غنیمت کے مال میں سے پانچویں حصہ کا ادا کرنا (یعنی کفار کی سپاہ یا مسلمانوں کے خلاف لڑنے والوں سے جو مال حاصل ہو مال غنیمت کہلاتا ہے) اور منع فرمایا ان کو کدو کے برتن، سبز گھڑے اور روغنی برتن سے۔ (شعبہ نے) کبھی یوں کہا اور نقیر سے اور کبھی کہا مقیر سے۔ (یعنی لکڑی سے بنائے ہوئے برتن ہیں)۔ اور فرمایا کہ اس کو یاد رکھو اور ان باتوں کی ان لوگوں کو بھی خبر دو جو تمہارے پیچھے ہیں۔ اور ابو  بکر بن ابی شیبہ نے مَنْ وَّرَآئَکُمْ کہا بدلے مِنْ وَرَآئِکُمْ کے۔ (ان دونوں کا مطلب ایک ہی ہے)۔ اور سیدنا ابن معاذ ؓ نے اپنی روایت میں ا پنے باپ سے اتنا زیادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے عبدالقیس کے اشج سے (جس کا نام منذر بن حارث بن زیاد تھا یا منذر بن عبید یا عائذ بن منذر یا عبداللہ بن عوف تھا) فرمایا کہ تجھ میں دو عادتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، ایک تو عقل مندی، دوسرے دیر میں سوچ سمجھ کر کام کرنا جلدی نہ کرنا۔ 
2: سیدنا ابو  ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ایک دن لوگوں میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ! ایمان کسے کہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تو یقین کرے دل سے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس سے ملنے پر اور اس کے پیغمبروں پر اور یقین کرے قیامت میں زندہ ہونے پر۔ پھر وہ شخص بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ! اسلام کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو اللہ جل جلالہ کو پوجے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور قائم کرے تو فرض نماز کو اور دے تو زکوٰۃ کو جس قدر فرض ہے اور روزے رکھے رمضان کے۔ پھر وہ شخص بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ! احسان کسے کہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ تو عبادت کرے اللہ کی جیسے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اگر تو اس کو نہیں دیکھتا (یعنی توجہ کا یہ درجہ نہ ہو سکے)تو اتنا تو ہو کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ پھر وہ شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ! قیامت کب ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ جس سے پوچھتے ہو قیامت کو وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن اس کی نشانیاں میں تجھ سے بیان کرتا ہوں کہ جب لونڈی اپنے مالک کو جنے تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب ننگے بدن ننگے پاؤں پھرنے والے لوگ سردار بنیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب بکریاں یا بھیڑیں چرانے والے بڑی بڑی عمارتیں بنائیں تو یہ بھی قیامت کی نشانی ہے۔ قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کو کوئی نہیں جانتا سوا اللہ تعالیٰ کے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے یہ آیت پڑھی کہ’’ اللہ ہی جانتا ہے قیامت کو اور وہی اتارتا ہے پانی کو اور جانتا ہے جو کچھ ماں کے رحم میں ہے (یعنی مولود نیک ہے یا بد، رزق کتنا ہے، عمر کتنی ہے وغیرہ) اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس ملک میں مرے گا۔ اللہ ہی جاننے والا اور خبردار ہے ‘‘۔ (لقمان: 34) پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ اس کو پھر واپس لے آؤ۔ لوگ اس کو لینے چلے لیکن وہاں کچھ نہ پایا (یعنی اس شخص کا نشان بھی نہ ملا) تب آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ وہ جبرئیل ؑ  تھے، تم کو دین کی باتیں سکھلانے آئے تھے۔ 

Monday, March 18, 2013

باب :رسول اللہﷺ سے محبت رکھنا ایمان میں سے ہے


باب :رسول اللہﷺ سے محبت رکھنا ایمان میں سے ہے
۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : اس (پاک ذات)  کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ اور اس کی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤ ں۔ 

باب : اپنے بھائی (مسلمان) کے لیے وہی بات چاہنا جو اپنے لیے چاہے (یہ) ایمان میں سے ہے۔


باب : اپنے بھائی (مسلمان)  کے لیے وہی بات چاہنا جو اپنے لیے چاہے (یہ)  ایمان میں سے ہے۔ 
 (۱۳)۔ سیدنا انسؓ نبی سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایماندار نہ ہو گا یہاں تک کہ اپنے بھائی (مسلمان)  کے لیے وہی کچھ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔

کونسا اسلام افضل ہے


(اس بیان میں کہ)  کونسا اسلام افضل ہے ؟
 (۱۱)۔ سیدنا ابوموسیٰؓ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! کونسا اسلام افضل ہے ؟ تو آپﷺ نے فرمایا: (اس شخص کا اسلام)  جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان ایذا نہ پائیں۔ 
باب: (کسی کو)  کھانا کھلانا اسلام میں سے ہے 
 (۱۲)۔ سیدنا عبد اللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ کونسا اسلام بہتر ہے ؟تو آپﷺ نے فرمایا: کھانا کھلاؤ اور جس کو جانتے ہو اور جس کو نہیں جانتے ہو (سب کو)  سلام کرو۔

ایمان کے کاموں کا بیان



باب:  ایمان کے کاموں کا بیان 
 (۹)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا : ایمان ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں رکھتا ہے اور حیا (بھی)  ایمان کی (شاخوں میں سے)  ایک شاخ ہے۔ 
باب :(اس بیان میں کہ پکا)  مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے)  مسلمان ایذا نہ پائیں۔ 
 (۱۰)۔ سیدنا عبد اللہ بن عمروؓ نبیﷺ سے بیان کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا : (پکا)  مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے)  مسلمان ایذا نہ پائیں (اور اصل) مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن کی اللہ تعالیٰ نے ممانعت فرمائی

اسلام (کا محل) پانچ (ستونوں) پر بنایا گیا ہے



ایمانیات 

 باب: نبیﷺ کا ارشاد (ہے)  کہ اسلام (کا محل)  پانچ (ستونوں)  پر بنایا گیا ہے 
 (۸)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اسلام (کا محل)  پانچ (ستونوں)  پر بنا یا گیا ہے (۱) اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کو ئی معبود نہیں ہے اور اس بات کی گواہی (بھی دینا)  کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں (۲)  نماز پڑھنا (۳)  زکوٰۃ دینا (۴) حج کرنا (۵) رمضان کے روزے رکھنا۔ ‘‘